اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مسلمانوں کے درمیان مسلکی اختلافات ایک مسلمہ حقیقت ہے یہ اختلافات اصولی نہیں بلکہ صرف فروعی نوعیت کے ہیں جس سے کسی کا اسلام یا ایمان متاثر نہیں ہوسکتا اور نہ فروعی اختلافات کی بنیاد پر کسی کے خلاف تکفیری فتویٰ صادر کیا جا سکتا ۔اس پر علمائے اسلام کا اجماع ہے اللہ تعالی ٰ نے قرآن کریم میں امت مسلمہ کو جسد واحدہ قرار دیکر مسلمانوں سے اخوت و اتحاد کی تاکید کررکھی ہے اور ہر سطح پر تجدید اخوت کی تلقین کی ہے امت مسلمہ کے حقیقی خیر خواہ علمائے دین نے مسلکی اختلافات کے باوجود امت مسلمہ کو جوڑے رکھنے اور باہمی اتحاد کی آبیاری کے لئے ملت کو ایک حکیمانہ اصول پر کاربند رکھنے کے لئے سخت محنت و مشقت کی ہے وہ اصول یہ ہے کہ اپنے مسلک کو ہر گز نہ چھوڑو اور دوسرے کے مسلک کو ہر گز نہ چھیڑو۔ بقول رہبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی ـــ'ہر اختلافی آواز شیطان کی آواز ہے دشمنان اسلام نے ہر دور میں اسی شیطانی آواز کا سہارا لیکر ملت اسلامیہ کی قوت کو توڑنے کی کوشش کی ہیں اور ضمیر فروش مولویوں کو آلہ کار بناکر اس مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھایا ہے بد قسمتی سے کچھ مولوی صاحبان نا دانستہ طور پر اس گھناونی سازش کے حوالے سے استعمال ہو رہے ہیں زمانہ قدیم میں کافی عرصے تک عالم اسلام میں مناظروں کا ایک سلسلہ چلا جس کی تباہ کاریاں اور تلخیاں آج بھی محسوس کی جا رہی ہیں مناظرہ بازی کرنے والے یہ مولوی نہ ہی اسلام کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور نہ کسی مسلک کے غمخوار ہوتے ہیں بلکہ یہ لوگ اپنے آقاوں کی نمک خواری کا حق ادا کر رہے ہیں عالم اسلام کی موجودہ صورتحال میں مناظرہ بازی کی کوئی گنجائش نہیں یہ حرکت ایک بجھی ہوئی نفرت کی آگ کو از سر نو بڑھکانے کی کسی دانستہ سازش کی کڑی ہے ملت اسلامیہ جموں و کشمیر سے میری مئودبانہ گزارش ہے کہ وہ ان مناظرہ بازوں اور مناظرہ بازی سے واضح اعلان برات کریں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲